12 اگست 2011 - 19:30

آل خلیفہ کی سلطنت حتی امریکی حمایت اور سعودی قابضين کی موجودگی میں بھی، عوام کی وسیع فعالیت کے نتیجے میں اختتام پذیر ہورہی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی سیاستدان "ہانی الریس" نے کہا ہے کہ انقلابیوں کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ یہ کہ استقامت سے کام لیتے ہوئے خلیفی حکومت کے جابرانہ اقدامات کا مقابلہ کیا جائے چنانچہ بحرین میں احتجاج کا یہ سلسلہ صرف ایک ہی صورت میں اختتام پذیر ہوگا اور وہ کہ مستبد، آمر اور مطلق العنان آل خلیفہ خاندان زوال پائے اور بحرین سے نکال باہر کیا جائے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ آل خلیفہ حکومت کی سرنگونی اور آل سعود خاندان کے انخلاء پر مبنی عوامی نعرے کبھی بھی اختتام پذیر نہ ہونگے اور مظاہرے ہر روز بحرین کے مختلف علاقوں میں منعقد ہونگے اور آل خلیفہ اور آل سعود کے تمام سیکورٹی اقدامات نظرانداز کئے جاتے رہیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ آل سعود اور آل خلیفہ کے جابرانہ اقدامات کا نقصان براہ راست ان ہی کو اٹھانا پڑے گا اور آج تک ان اقدامات کا نقصان ان ہی کے گلے پڑتا رہا ہے۔ انھوں نے حال ہی میں ایک اعلی سطحی امریکی فوجی وفد کے دورہ بحرین کے وقت خلیفی وزیر دفاع کی جانب سے بحرین میں امریکی افواج کی تعیناتی پر خوشی کے اظہار اور مزید امریکیوں کی بحرین آمد کی درخواست پر تنقید کرتے ہوئے کہا: بحریر میں تمام سیاسی، سلامتی اور ابلاغی امور امریکیوں کے ہاتھ میں ہيں۔

احتجاج خلیفی آمریت کے خاتمے تک جاری رہے گاایک بحرینی سیاستدان نے زور دے کر کہا کہ آل خلیفہ حکومت کی سرنگونی کے لئے سے شروع ہونے والی تحریک جاری رہے گی اسی بنا پر انقلابی قوتوں اور حکومت کر کرائے کی فورسز کے درمیان جھڑپیں ناگزیر ہیں۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی سیاستدان " کريم المحروس " نے بحرینی عوام اس کے بعد بھی میدان شہداء اور ملک کے دیگر علاقوں میں مظاہروں، ریلیوں اور دھرنوں کی دعوت کو لبیک کہیں گے اور حکومت کو غیر متوقعہ صورت حال سے دوچار کرتے رہيں گے۔ المحروس نے کہا: گذشتہ ہفتوں کے دوران عوام کے مظاہروں، ریلیوں اور دھرنوں نے ثابت کردیا کہ ملت بحرین آل خلیفہ حکومت کی سرنگونی کے لئے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لئے میدان عمل میں حاضر ہوتی رہے گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110